[horizontal_news id="2" category="پاکستان" scroll_speed="0.05"]

کورونا اب کبھی ختم نہیں ہوگا۔۔دنیا کو اس کے ساتھ جینا ہے۔۔ ڈاکٹروں اور تحقیق کرنےوالوں کے ہاتھ کھڑے کردیئے،دنیا بھرمیں مایوسی

کورونا اب کبھی ختم نہیں ہوگا

۔۔دنیا کو اس کے ساتھ جینا ہے۔۔ ڈاکٹروں اور تحقیق کرنےوالوں کے ہاتھ کھڑے کردیئے،دنیا بھرمیں مایوسی سلام آباد (نیوز ڈیسک) اقوام متحدہ کے یورپی دفتر کے سربراہ ہانس کلوگے نے کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کے نتائج پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بظاہر کووڈ انیس کی بیماری کے انسداد کی فوری کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی کیونکہ اس وائرس کے نئے متغیر یا ویریئنٹس مسلسل انسانوں کو بیمار کرنے کا سلسلہ

جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر ہانس کلوگے نے واضح کیا ہے کہ اب یقین ہوتا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس اگلے کئی برسوں تک موجود رہے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اقوام عالم کے ہیلتھ حکام کو مل بیٹھ کر ویکسینیشن کے موجودہ پروگرام اور طریقہٴ کار کا جائزہ لینا ہو گا اور مستقبل کی ترجیحات اقوام کی ضروریات کے تناظر میں مرتب کرنی ہوں گی۔یہ امر اہم ہے کہ عالمی ادارہٴ صحت کے سینیئر اہلکار ہانس کلوگے نے رواں برس مئی میں کہا تھا کہ جب بیشتر اقوام میں ستر فیصد تک

ویکسینیشن کا عمل مکمل ہو جائے گا تو ان ممالک میں کورونا وائرس کی وبا دم توڑ جائے گی۔ بظاہر ایسا نہیں ہوا اور کووڈ انیس کی موجودہ نئی لہر خطرہ بنی ہوئی ہے۔ہانس کلوگے سے جب مئی کے ان کے بیان کے حوالے سے پوچھا گیا کہ وہ اس موقف پر قائم ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ زمینی حقائق نے ماضی کی صورت حال کو اب پوری طرح تبدیل کر دیا ہے۔کلوگے کے مطابق ڈیلٹا اور دوسرے ویریئنٹس کی وجہ سے فی الحال کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے مطابق ویکسین سے یہ ضرور فائدہ ملا ہے کہ عام لوگ وائرس کی لپیٹ میں آنے کے باوجود صحت یاب ہو رہے ہیں اور ان میں بیماری کی علامات شدید نہیں ہیں۔عالمی ادارہٴ صحت کے سینیئر اہلکار کا یہ بھی کہنا ہے کہ کووڈ انیس کی بیماری جلد ختم ہونے والی نہیں ہے اور یہ انفلوئنزا کی طرح موجود رہے گی۔ڈاکٹر ہانس کلوگے کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ویکسینشن کے حوالے سے حکمت عملی کو تبدیل کر کے اس کی افادیت کو دوچند کیا جائے۔اسی انداز میں متعدی و وبائی امراض کے ماہرین بھی سوچ رہے ہیں کہ گنجان بستیوں میں وائرس سے بچاؤ کے لیے وہاں کے مکینوں کے مدافعتی نظام کو قوت دینے کے لیے صرف ویکسین کی

فراہمی کافی نہیں ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اہلکار نے ہائی ویکسینیشن کو اس لیے اہم خیال کیا کیونکہ اس کی بدولت ہیلتھ کیئر نظام کو بیمار افراد کے بوجھ سے بچانا ممکن ہے۔ ان کا کہنا ہے ہیلتھ کیئر نظام صرف کووڈ انیس کے بیماروں کے لیے نہیں بلکہ کئی دوسری بیماریوں کے شکار افراد کا خیال رکھنا اور انہیں علاج فراہم کرنا بھی اسی نظام کی ذمہ داری ہے۔یہ امر اہم ہے کہ بھارت میں جنم لینے والا ڈیلٹا ویریئنٹ ساٹھ فیصد زیادہ تیزی کے ساتھ ایک انسان سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔ اب کمبوڈیا میں جنم لینے والے مُو ویریئنٹ کا شور پیدا ہو گیا ہے۔ اس متغیر کو بھی انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
ایسا نہیں چلے گا۔۔۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس۔۔۔۔۔مہنگائی سے پریشان عوام کیلئے امید کی نئی کرن
جسم جھلسا دینےوالی گرمی۔۔ ستمبر بھی جوالائی بن گیا۔۔ سال کی گرم ترین رات۔۔درجہ حرات کہاں تک پہنچ گیا؟جانیے تفصیل
طوفانی بارشوں کے بعد شدید گرمی،آج پارہ کہاں تک جانے والا۔۔؟محکمہ موسمیات نے خبر دار کردیا
طلبا کی موج مستیاں ختم !کون کون سے شہروں میں سکولز کھل گئے۔ نوٹیفکیشن جاری
ٹریفک حادثے نے لاشیں بچھا دیں،متعدد جاں بحق،10زخمی ہسپتال منتقل،ہر طرف چیخ و پکار
حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے اپوزیشن کی پہلی بڑی کامیابی،کتنے حکومتی ارکان بغاوت کرنےوالے ہیں،صبح صبح تہلکہ خیز خبر

خصوصی فیچرز
ٹول پلازہ میں ڈیوٹی پر بیٹھا تھاایک لڑکی میں دیکھا کہ میرے دوست کی بہن اور چار لڑکے بیٹھے ہیں ،لڑکی رو رہی ہے میں نے پوچھااسے کہاں لے جا رہے ہو تو اچانک۔۔انتہائی افسوسناک واقعہ
خود کو سانپ سے ڈسوا کے مرنے والی لڑکی۔۔ جانیے اس خوبصورت ملکہ کے بارے میں چند ایسی معلومات، جس نے روم کے حکمرانوں کو تباہ کر دیا تھا
اللہ کا عذاب نہ آئےتو کیاآئے۔۔ برہنہ لڑکیوں کا روڈ پر ڈانس کرایاگیا،پورے گاؤں میں گھمایاگیا۔۔ جہالت کی انتہا
کالی مرچ سے نظرِ بد کیسے دور کی جا سکتی ہے؟ایسا طریقہ کو آپ اور آپ کے بچوں کو نظر بد سے بچائےگا۔۔والدین لازمی پڑھیں اور ایک بارضرور ٹرائی کریں
کامیابی شادی کیلئے میاں بیوی کی عمر میں کتنا فرق ہونا لازمی۔۔کنوارے اور والدین یہ تحقیق جان لیں
احسان فراموشوں کو کبھی معاف نہیں کروں گا ۔۔ اس قوم کے ہیروڈاکٹر عبدالقدیر خان آج کل کس مشکل وقت سے گز رہے ہیں؟انہیں کس سے شکوہ ہے؟جانیے

Copyright © 2020 Pakistan News Network. All Rights Reserved