رمضان کے دوران ان عادات سے لازمی پرہیز کریں،شہریوں کیلئے بڑی خبر آگئی

اسلام آباد(نیو زڈیسک)رمضان المبارک کا مہینہ ہر سال بڑی تیزی سے گزر جاتا ہے اور اس دوران رمضان کے مہینے کے مطابق خود کو ڈھالنے اور روٹین کو بہتر بنانے کا وقت ہی نہیں ملتا اور یہ مہینہ ختم ہو جاتا ہے، اسی لیے رمضان سے متعلق منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے اور چند مضر صحت عادات سے چھٹکارہ حاصل کر کے اسے مزید فائدہ مند بنایا جا سکتا ہے۔رمضان کے مہینے میں سب سے زیادہ نیند کے اوقات خراب ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ساری روٹین پر اثر پڑتا ہے، اکثر افراد رمضان کے مہینے میں ہر وقت نیند میں نڈھال نظر آتے ہیں جبکہ پیشگی

منصوبہ بندی سے اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔رمضان کے مہینے میں چند عادات سے پرہیز کر کے اس مہینے کو با آسانی اور خوش اسلوبی سے گزارا جا سکتا ہے، بس خود کو ذہنی طور پر تیار کرنا ہے کہ مندرجہ ذیل بتائی گئی عادات کو اس مہینے کے دوران دہرانا نہیں ہے۔طبی ماہرین کی جانب سے کسی بھی کھانے کے فوراً بعد سونا منع کیا جا تا ہے، یہ انسانی صحت کے لیے مضر صحت عادت قرار دی جاتی ہے، رمضان میں یہ عادت اس لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے کیوں کہ ہمارے جسم کو کھانا بہت دیر بعد ملتا ہے جسے ہضم کرنے میں اور انسانی جسم میں جذب ہونے میں وقت درکار ہوتا ہے، اس عادت سے بد ہضمی، گیس کا ہونا، بوجھل پن اور تھکاوٹ بڑھ جاتی ہے، مزید وزن میں اضافہ اور دل کی بیماریوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔کچھ افراد خود کو تازہ دم رکھنے یا سحری تک جگائے رکھنے کے لیے کافی یا چائے کی مدد لیتے ہیں، رمضان کے دوران کیفین کا زیادہ استعمال باعث نقصان ثابت ہو سکتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ کافی یا چائے پینے سے انسانی جسم میں محفوظ پانی خارج ہو جاتا ہے اور انسان بہت جلد ڈیہائیڈریشن کا شکار ہو سکتا ہے۔ماہرین کی جانب سے ہر صورت میں چکنائی کی کم سے کم مقدار کا استعمال تجویز کیا جاتا ہے، رمضان کے دوران صرف دو وقت کے کھانے کے دوران جب اچانک مرغن غذاؤں کا استعمال شروع کر دیا جائے تو جسمانی نظام غیر متوازن ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول لیول بڑھنے کے نتیجے میں روزہ دار بہت جَلد بیمار پڑ سکتا ہے۔افطار کے دوران سادہ یا لیموں پانی کو ترجیح دینی چاہیے، اس دوران کولا ڈرنکس اور بہت زیادہ میٹھے مشروبات کے استعمال سے صحت پر مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔رمضان کے دوران خود کو متحرک نہ رکھنا یا چہل قدمی نہ کرنا ایک مضر صحت عادت ہے، رمضان کے مہینے میں ورزش کے دگنے فوائد حاصل ہوتے ہیں جبکہ سب سے بڑھ کر انسان خود کو متحرک اور چاق چوبند محسوس کرتا ہے اور غذا بھی با آسانی ہضم ہو جاتی ہے، معدے کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔سحری کے وقت سب ہی کے لیے اُٹھنا نہایت مشکل ہوتا ہے مگر سحری کیے بغیر روزہ رکھنا اچھی عادت نہیں ہے، سحری کے وقت اُٹھنا اور سحری کر کے روزہ رکھنا ایک صحت مندانہ عمل ہے ، سحری کرنے سے انسانی جسم کی سائیکل متوازن اور نظام بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ عادت مناسب نہیں ہے، روزہ دار کئی گھنٹوں بعد کھانا کھاتا ہے جس کے نتیجے میں جسم کو آرام اور معدے کو غذا ہضم کرنے کے لیے وقت اور آرام کی ضرورت ہوتی ہے، افطار کے فوراً بعد چہل قدمی کرنے یا ورزش کرنے کی صورت میں معدہ اپنا کام کرنا چھوڑا دیتا ہے اور اس کے سبب معدے کی کارکردگی متاثر اور غیر متوازن ہو سکتی ہے



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
ایمانداری سے بتائیں آپ اپنے مشیروں اور زیروں سے مطمئن ہیں ؟ شہری کے براہ راست سوال پر عمران خان نے کیا جواب دیا ؟
فواد چوہدری کا دل کب جھوم جاتا ہے؟وفاقی وزیر نے آخر کار اندر کی بات بتا دی
شہباز شریف کی ضمانت ، اپوزیشن لیڈر کے خلاف بڑی کارروائی ڈال دی گئی
”ایسا تاثر گیا کہ سارے دفتر خارجہ کو برا بھلا کہہ رہا ہوں لیکن ایسا نہیں بلکہ ۔۔“وزیراعظم عمران خان نے وضاحت کر دی
نواز شریف کے حوالے سے حامد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ سن کر مریم نواز کو بھی غصہ آجائے
وہ بات جس سے سعودی حکام چڑکھاتے ہیں لیکن عمران خان وہی کام کربیٹھے

خصوصی فیچرز
پاک سعودی تعلقات میں بہتری کی ’قیمت‘ کیا ہے؟ایسا دعویٰ کے پاکستانیوں کے ہوش اڑ جائیں گے۔۔
دنیا کا عظیم اورفاتح اور بادشاہ۔۔۔۔۔ حضرت عمر فاروق یا سکندر اعظم ؟ ۔۔۔ایسی تحریر جو آپ کی آنکھیں کھول دی گئی
افطاری سے پہلے جائے نماز پر بیٹھ کر یہ دعا پڑھیں، اٹھنے سے پہلے انشا اللہ بڑی سے بڑی حاجت فوری پوری ہو گی
مجھے 10لاکھ روپوں کی ضرورت تھی ، یہ چھوٹا سا ایک وظیفہ کیا اور 3دن میں پیسے مل گئے
سبحان اللہ سبحان اللہ۔۔حرم مکی میں نمازی کے سر پر کیا چیز آ کر بیٹھ گئی،ایسی ویڈیو وائرل کہ ہر مسلمان اللہ اکبر کہہ اٹھا۔۔
کیا بہن، بہنوئی کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟ایسی تحریر کو پڑھ کر آپ شیئر کرنے پر مجبور ہو جائیںگے

Copyright © 2020 Pakistan News Network. All Rights Reserved